Urdu (General) MCQs
Topic Notes: Urdu (General)
MCQs and preparation resources for competitive exams, covering important concepts, past papers, and detailed explanations.
Plato
- Biography: Ancient Greek philosopher (427–347 BCE), student of Socrates and teacher of Aristotle, founder of the Academy in Athens.
- Important Ideas:
- Theory of Forms
- Philosopher-King
- Ideal State
41
اسمِ مفعول قیاسی بنانے کا قاعدہ کیا ہے؟
Answer:
ماضیِ مطلق کے آخر میں 'ہوا' لگانا
اردو میں اسمِ مفعول قیاسی بنانے کے لیے فعل کی ماضیِ مطلق کی صورت کے بعد 'ہوا'، 'ہوئی' یا 'ہوئے' کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً 'پڑھا' سے 'پڑھا ہوا' اور 'سنا' سے 'سنا ہوا'۔
42
وہ اسمِ مشتق جس پر کام واقع ہو، کیا کہلاتا ہے؟
Answer:
اسمِ مفعول
اسمِ مفعول (Objective Noun) وہ اسمِ مشتق ہے جو اس شخص یا چیز کو ظاہر کرے جس پر فاعل کا کام ختم ہو یا واقع ہو۔ مثلاً 'لکھنا' مصدر سے 'لکھا ہوا' (خط) یا 'دیکھنا' سے 'دیکھا ہوا' (منظر)۔
43
لفظ 'تیراک' گرامر کی رو سے اسمِ فاعل کی کون سی قسم ہے؟
Answer:
سمائی
تیراک اسمِ فاعل سمائی ہے کیونکہ یہ کسی عام قاعدے (جیسے تیرنے والا) کے بجائے اہل زبان کی مخصوص بناوٹ پر مبنی ہے۔ سمائی الفاظ وہ ہوتے ہیں جو قواعد کے بجائے صرف سننے پر منحصر ہوتے ہیں۔
44
وہ اسمِ فاعل جو مصدر کے آخر میں 'والا' لگانے سے بنے، اسے کیا کہتے ہیں؟
Answer:
اسمِ فاعل قیاسی
قیاسی کا مطلب ہے وہ جو کسی 'قیاس' یا قاعدے کے مطابق ہو۔ اردو میں مصدر کی علامت 'نا' ہٹا کر یا اسے برقرار رکھ کر 'والا' یا 'ہار' لگانے سے جو اسمِ فاعل بنتا ہے اسے قیاسی کہتے ہیں، جیسے 'پڑھنے والا' یا 'پالنہار'۔
45
اسمِ فاعل کی کتنی اقسام ہیں؟
Answer:
دو
اسمِ فاعل کی دو بنیادی اقسام ہیں: (1) اسمِ فاعل قیاسی، جو گرامر کے مقررہ قاعدے (جیسے مصدر کے آخر میں والا لگانا) کے تحت بنے۔ (2) اسمِ فاعل سمائی، جو کسی قاعدے کے بغیر اہل زبان سے سنا گیا ہو، جیسے 'لٹیرا' یا 'تیراک'۔
46
وہ اسمِ مشتق جو کام کرنے والے کو ظاہر کرے، کیا کہلاتا ہے؟
Answer:
اسمِ فاعل
اسمِ فاعل (Subjective Noun) وہ اسم ہے جو کسی مصدر سے بنے اور اس شخص یا چیز کو ظاہر کرے جو فعل (کام) کو انجام دے رہی ہو۔ مثلاً 'دوڑنا' مصدر سے 'دوڑنے والا' یا 'تیراک'۔ یہ کام کرنے والے کی پہچان بن جاتا ہے۔
47
درج ذیل میں سے مصدر کی نشاندہی کریں:
Answer:
کھیلنا
کھیلنا ایک مصدر ہے کیونکہ یہ ایک عمل کا نام ہے اور اس کے آخر میں علامتِ مصدر 'نا' موجود ہے۔ 'کھلاڑی' اسمِ فاعل ہے، 'کھیل' حاصلِ مصدر ہے اور 'کھیلا ہوا' اسمِ مفعول ہے، جو کہ سب مشتقات ہیں۔
48
وہ اسم جو کسی مصدر سے مقررہ قاعدے کے تحت بنایا گیا ہو، اسے کیا کہتے ہیں؟
Answer:
اسمِ مشتق
اسمِ مشتق وہ اسم ہے جو کسی مصدر سے نکلا ہو۔ مشتق کے لغوی معنی 'نکلا ہوا' یا 'الگ کیا ہوا' کے ہیں۔ مثلاً 'لکھنا' مصدر ہے اور اس سے 'لکھائی' یا 'لکھنے والا' اسمِ مشتق ہیں۔ اردو گرامر میں مشتقات کی سات بڑی اقسام ہیں۔
49
اردو زبان میں مصدر کی علامت کیا ہے؟
Answer:
نا
اردو میں مصدر کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ اس کے آخر میں 'نا' آتا ہے، بشرطیکہ وہ کسی کام کا نام ہو۔ مثلاً لکھنا، پڑھنا، سونا اور جاگنا۔ اگر لفظ کے آخر سے 'نا' ہٹا دیا جائے تو وہ فعلِ امر (حکم) بن جاتا ہے، جیسے لکھنا سے 'لکھ'۔
50
وہ اسم جو خود تو کسی کلمے سے نہ بنا ہو لیکن اس سے مقررہ قاعدوں کے مطابق کئی کلمات بنائے جا سکیں، کیا کہلاتا ہے؟
Answer:
اسمِ مصدر
اسمِ مصدر وہ کلمہ ہے جو کام کے نام کو ظاہر کرتا ہے لیکن اس میں کوئی زمانہ (Past, Present, Future) نہیں پایا جاتا۔ یہ خود کسی لفظ سے نہیں نکلتا بلکہ اس سے دوسرے بہت سے الفاظ جیسے فعل اور اسمِ مشتق بنائے جاتے ہیں۔ اردو میں اس کی پہچان آخر میں 'نا' کا ہونا ہے۔