Option B
'دولت' کی جمعِ مکسر 'دول' ہے، جیسے 'اقوامِ عالم کی دول'۔ یہ لفظ اردو میں کم مگر مخصوص علمی تراکیب میں استعمال ہوتا ہے۔
OTS (Open Testing Service) · Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers)
Practice verified Guinness World Records (General Knowledge Focus) MCQs with Answers & Explanations for Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers) preparation. Featuring solved questions, detailed explanations, and past paper answers (Page 447).
World Records & Superlatives · General Knowledge
'دولت' کی جمعِ مکسر 'دول' ہے، جیسے 'اقوامِ عالم کی دول'۔ یہ لفظ اردو میں کم مگر مخصوص علمی تراکیب میں استعمال ہوتا ہے۔
'فعل' (کام) کی جمعِ مکسر 'افعال' ہے، جو 'افعال' کے وزن پر ہی آتی ہے۔
'ملک' جب فرشتہ کے معنی میں ہو (میم پر زبر) تو اس کی جمعِ مکسر 'ملائکہ' ہوتی ہے۔
لفظ 'ملک' (م ل ک) جب ملک یا ریاست کے معنی میں ہو تو اس کی جمعِ مکسر 'ممالک' ہوتی ہے، جیسے 'اسلامی ممالک'۔
اردو میں 'خطرات' جمع سالم کے طور پر زیادہ استعمال ہوتا ہے، مگر عربی کے مکسر قاعدے کے مطابق 'مخاطر' بھی اس کی جمع ہے۔ تاہم امتحانی نقطہ نظر سے 'خطرات' کو اکثر سالم اور 'مخاطر' کو مکسر مانا جاتا ہے۔
'اثر' کی جمعِ مکسر 'آثار' ہے، جیسے 'آثارِ قدیمہ' (پرانی نشانیاں)۔ 'اثرات' اثر کی جمع سالم بھی اردو میں رائج ہے۔
'فکر' کی جمعِ مکسر 'افکار' ہے (افعال کے وزن پر)۔ 'تفکرات' تفکر کی جمع ہے جو ذہنی پریشانیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
'جوہر' کی جمعِ مکسر 'جواہر' ہے۔ 'جواہرات' دراصل جمع الجمع کی صورت میں بھی استعمال ہوتا ہے، مگر بنیادی مکسر جمع 'جواہر' ہے۔
'مدینہ' (شہر) کی جمعِ مکسر 'مدائن' ہے۔ 'مدینے' اردو میں عام بول چال میں واحد کے طور پر بھی تعظیماً استعمال ہوتا ہے۔
'فن' کی جمعِ مکسر 'فنون' ہے، جو 'فعول' کے وزن پر بنتی ہے۔ جیسے خطاطی اور مصوری مختلف 'فنون' ہیں۔
'مذہب' کی جمعِ مکسر 'مذاہب' ہے، جو 'مفاعل' کے وزن پر ہے۔ اردو میں تمام ادیان کے لیے 'مذاہبِ عالم' کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
'اسم' (نام) کی جمعِ مکسر 'اسماء' ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں کو 'اسماء الحسنیٰ' کہا جاتا ہے۔
'حکم' کی جمعِ مکسر 'احکام' ہے، جس کا مطلب ہے اللہ یا کسی اتھارٹی کے دیے گئے احکامات یا قوانین۔ 'حاکموں' حاکم کی جمع ہے۔
'خلق' (عادت یا خصلت) کی جمعِ مکسر 'اخلاق' ہے۔ اردو میں اخلاقیات اسی مکسر جمع سے منسوب ایک شعبہ ہے۔
'جزو' (حصہ) کی جمعِ مکسر 'اجزاء' ہے، جو 'افعال' کے وزن پر بنتی ہے۔ جیسے کسی مشین کے پرزوں کو 'مشینی اجزاء' کہا جاتا ہے۔
'طرف' کی جمعِ مکسر 'اطراف' ہے۔ 'طرفین' تثنیہ ہے (یعنی دو طرفیں) اور 'طرفیں' اردو کی باقاعدہ جمع ہے، مگر مکسر صورت 'اطراف' ہی ہے۔
'وقت' کی جمعِ مکسر 'اوقات' ہے، جو 'افعال' کے وزن پر ہے۔ اردو میں یہ لفظ نہ صرف وقت کی جمع کے طور پر بلکہ کبھی کبھار محاورتاً حیثیت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
عربی کے وزن 'مفاعل' پر 'مسجد' کی جمع 'مساجد' بنتی ہے۔ یہ جمعِ مکسر کی ایک بہت عام صورت ہے جس میں واحد کے حروف کے درمیان الف کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔
'شعر' کی جمعِ مکسر 'اشعار' ہے، جو عربی کے وزن 'افعال' پر مبنی ہے۔ اردو شاعری میں کلام کے مجموعے کو اشعار کہا جاتا ہے۔
'شاعر' (شعر کہنے والا) کی جمعِ مکسر 'شعراء' ہے۔ جبکہ 'شعر' کی جمع 'اشعار' ہوتی ہے۔ اردو میں یہ دونوں الفاظ اپنے اپنے مآخذ کے لحاظ سے مختلف جمع رکھتے ہیں۔