Option A
اسمِ جنس وہ اسم ہے جو کسی جاندار یا چیز کی پوری صنف یا جنس کو ظاہر کرے، جیسے 'کتا'، 'گھوڑا'، 'مرد' یا 'عورت'۔ یہ لفظ اپنی پوری جنس کی نمائندگی کرتا ہے۔
OTS (Open Testing Service) · Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers)
Practice verified Guinness World Records (General Knowledge Focus) MCQs with Answers & Explanations for Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers) preparation. Featuring solved questions, detailed explanations, and past paper answers (Page 500).
World Records & Superlatives · General Knowledge
اسمِ جنس وہ اسم ہے جو کسی جاندار یا چیز کی پوری صنف یا جنس کو ظاہر کرے، جیسے 'کتا'، 'گھوڑا'، 'مرد' یا 'عورت'۔ یہ لفظ اپنی پوری جنس کی نمائندگی کرتا ہے۔
فوج اور انجمن ایسے الفاظ ہیں جو واحد کے طور پر لکھے اور بولے جاتے ہیں لیکن ان کا مطلب بہت سے افراد کا مجموعہ ہوتا ہے، اس لیے انہیں اسمِ جمع کہا جاتا ہے۔
ہتھوڑا ایک اوزار ہے جو ٹھونکنے کے کام آتا ہے، اس لیے یہ اسمِ آلہ ہے۔ جبکہ باغ ظرفِ مکاں، صبح ظرفِ زماں اور قوم اسمِ جمع ہے۔
ضمیرِ شخصی وہ ضمیر ہے جو کسی شخص یا افراد کے لیے استعمال ہو۔ اس کی تین صورتیں ہیں: متکلم (میں، ہم)، حاضر (تو، تم) اور غائب (وہ)۔
جس اسم یا نام کی طرف ضمیر لوٹتی ہے یا جس کی جگہ وہ استعمال ہوتی ہے، اسے 'مرجع' کہتے ہیں۔ مثلاً 'علی آیا، وہ بیمار تھا' میں 'وہ' ضمیر ہے اور 'علی' اس کا مرجع ہے۔
اسمِ ضمیر (Pronoun) وہ کلمہ ہے جو کسی نام کی جگہ استعمال کیا جائے تاکہ تکرار سے بچا جا سکے۔ جیسے اس، وہ، تم، میں وغیرہ۔ یہ کلام میں خوبصورتی پیدا کرتا ہے۔
اسمِ موصول کے فورا بعد جو جملہ اس کے معنی کی وضاحت کے لیے آتا ہے، اسے 'صلہ' کہا جاتا ہے۔ صلہ کے بغیر موصول کا مفہوم ادھورا رہتا ہے۔
اسمِ موصول وہ اسمِ معرفہ ہے جس کے ساتھ جب تک ایک وضاحتی جملہ (صلہ) نہ لگایا جائے، وہ واضح مطلب نہیں دیتا۔ جیسے 'جو'، 'جس'، 'جیسا'۔ مثال: 'جو محنت کرے گا، وہ کامیاب ہوگا'۔
گرامر میں جس چیز یا شخص کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہو، اسے 'مشارٌ الیہ' کہتے ہیں۔ مثلاً 'یہ گھر' میں 'یہ' اسمِ اشارہ ہے اور 'گھر' مشارٌ الیہ ہے۔
اسمِ اشارہ وہ کلمہ ہے جو کسی نزدیک یا دور کی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے بولا جائے۔ جیسے 'یہ' کتاب یا 'وہ' لڑکا۔ یہ اسمِ معرفہ کی ایک اہم قسم ہے۔
عینک اور ترازو وہ اوزار یا آلات ہیں جو دیکھنے یا وزن کرنے کے کام آتے ہیں۔ کسی کام میں مدد دینے والے اوزار کا نام اسمِ آلہ کہلاتا ہے۔
وہ تمام الفاظ جو کسی جاندار یا بے جان شے کی مخصوص آواز کی نقل ہوں، انہیں اسمِ صوت کہا جاتا ہے۔ 'ٹک ٹک' گھڑی کی آواز کی نمائندگی کرتا ہے۔
بتنگڑ 'بات' کی مبالغہ آمیز یا بڑی صورت کو کہتے ہیں۔ کسی اسم کی بڑائی یا وسعت کو ظاہر کرنے والا لفظ اسمِ مکبر کہلاتا ہے۔
لفظ 'پہاڑی' چھوٹے پہاڑ کو ظاہر کرتا ہے۔ کسی اسم کی چھوٹی شکل کو گرامر میں اسمِ مصغر یا تصغیر کہا جاتا ہے، جو اکثر آخر میں 'ی' لگانے سے بنتا ہے۔
سونا ایک مادہ (Material) کا نام ہے جو اپنی نوعیت میں عام ہے جب تک کہ اسے کسی خاص کان یا ٹکڑے سے منسوب نہ کیا جائے۔ عام اشیاء کے نام اسمِ نکرہ کے زمرے میں آتے ہیں۔
اسمِ جامد وہ اسم ہے جو نہ خود کسی لفظ سے بنا ہو اور نہ اس سے مزید الفاظ بن سکیں۔ کرسی ایک ٹھوس چیز کا نام ہے جو کسی قاعدے سے مشتق نہیں ہوئی، اس لیے یہ جامد ہے۔
اسمِ حالیہ وہ اسمِ مشتق ہے جو فاعل یا مفعول کی موجودہ حالت (Current State) کو بیان کرے۔ جیسے 'وہ ہنستا ہوا گیا' میں 'ہنستا ہوا' حالیہ صورت ہے۔
مجبور اور معلوم عربی زبان کے الفاظ ہیں جو اردو میں مفعول کے وزن پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ ان چیزوں یا حالتوں کو ظاہر کرتے ہیں جن پر کوئی فعل واقع ہوا ہو، اس لیے یہ اسمِ مفعول ہیں۔
اسمِ صفت جس اسم کی حالت بتاتا ہے، اس اسم کو 'موصوف' کہا جاتا ہے۔ مثلاً 'سرخ پھول' میں 'سرخ' صفت ہے اور 'پھول' موصوف ہے کیونکہ اس کی صفت بیان کی جا رہی ہے۔
اسمِ صفت وہ کلمہ ہے جو کسی اسم کی خوبی، خامی، تعداد یا مقدار کو بیان کرے۔ مثلاً 'نیک لڑکا' میں 'نیک' اور 'ٹھنڈا پانی' میں 'ٹھنڈا' اسمِ صفت ہیں۔