Option B
اردو میں اسمِ مفعول قیاسی بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ ماضیِ مطلق کے آخر میں 'ہوا' لگا دیا جائے۔ 'لکھا ہوا' اسی قاعدے کے تحت بنا ہے، جبکہ مظلوم اور مقتول عربی کے مفعولی اوزان ہیں۔
OTS (Open Testing Service) · Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers)
Practice verified Guinness World Records (General Knowledge Focus) MCQs with Answers & Explanations for Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers) preparation. Featuring solved questions, detailed explanations, and past paper answers (Page 501).
World Records & Superlatives · General Knowledge
اردو میں اسمِ مفعول قیاسی بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ ماضیِ مطلق کے آخر میں 'ہوا' لگا دیا جائے۔ 'لکھا ہوا' اسی قاعدے کے تحت بنا ہے، جبکہ مظلوم اور مقتول عربی کے مفعولی اوزان ہیں۔
اسمِ فاعل سمائی وہ ہوتا ہے جو کسی خاص گرامر کے قاعدے کے بجائے اہل زبان کی بول چال سے اسی طرح سنا گیا ہو۔ تیراک اور لٹیرا مخصوص بناوٹ رکھتے ہیں جو عام 'والا' والے قاعدے سے ہٹ کر ہیں۔
اسمِ فاعل قیاسی وہ ہے جو مقررہ قاعدے (جیسے مصدر کے آخر میں 'والا' لگا کر) بنایا جائے۔ چونکہ 'لکھنے والا' ایک قاعدے کے تحت بنا ہے، اس لیے یہ قیاسی کہلائے گا۔
اسمِ مفعول (Objective Noun) وہ اسم ہے جو اس شخص یا چیز کا نام ہو جس پر فعل کا اثر پڑا ہو۔ مثلاً 'خط لکھا گیا' میں 'لکھا ہوا' (خط) مفعولی حالت کو ظاہر کر رہا ہے۔
اسمِ فاعل (Subjective Noun) وہ اسم ہے جو کسی کام کو انجام دینے والے شخص یا چیز کی نشاندہی کرے۔ جیسے 'دوڑنے والا' یا 'کھلاڑی'۔ یہ ہمیشہ کام کے کرنے والے کو ظاہر کرتا ہے۔
جب ہم کسی مصدر سے اس کا نتیجہ یا کیفیت اخذ کرتے ہیں تو وہ حاصل مصدر کہلاتا ہے۔ 'پڑھنا' ایک عمل ہے اور 'پڑھائی' اس عمل کا حاصل یا اثر ہے، اس لیے یہ حاصل مصدر ہے۔
اسمِ حاصل مصدر وہ اسم ہے جو مصدر سے نکلتا ہے اور اس کی کیفیت یا اثر کو ظاہر کرتا ہے لیکن وہ خود مصدر نہیں ہوتا۔ جیسے 'ہنسنا' سے 'ہنسی' یا 'تھکنا' سے 'تھکاوٹ'۔
اسمِ معاوضہ وہ اسم ہے جو کسی کام کے بدلے ملنے والی رقم یا مزدوری کو ظاہر کرے۔ مثلاً کپڑے سلوانے کی اجرت کو 'سلائی' اور دھونے کی اجرت کو 'دھلائی' کہتے ہیں۔
اردو میں مصدر کی علامت یہ ہے کہ اس کے آخر میں 'نا' آتا ہے (بشرطیکہ وہ کام کا نام ہو)۔ جیسے سونا، جاگنا، پڑھنا اور لکھنا۔ اگر 'نا' ہٹا دیا جائے تو وہ فعلِ امر بن جاتا ہے۔
بناوٹ کے لحاظ سے 'اسمِ مشتق' وہ اسم ہے جو کسی مصدر سے مقررہ قاعدے کے مطابق بنایا گیا ہو۔ جیسے 'لکھنا' (مصدر) سے 'لکھائی' یا 'لکھنے والا' اسمِ مشتق ہیں۔
لڑکے، کرسیاں اور کتابیں باقاعدہ جمع ہیں جن کے واحد موجود ہیں۔ لیکن 'قطار' ایک مجموعے کا نام ہے جو واحد کے طور پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے یہ اسمِ جمع ہے۔
اسمِ جمع وہ لفظ ہے جو شکل میں واحد ہو مگر اس کا مفہوم جمع کا ہو۔ جیسے 'فوج' ایک لفظ ہے لیکن اس میں بہت سے سپاہی شامل ہوتے ہیں۔ اسی طرح 'جماعت' اور 'انجمن' بھی اسمِ جمع ہیں۔
لفظ 'شاہراہ' میں 'شاہ' کا سابقہ لگایا گیا ہے جو کسی بڑی یا اہم سڑک کو ظاہر کرتا ہے۔ کسی اسم میں بڑائی کے معنی پیدا کرنے والا اسم، اسمِ مکبر کہلاتا ہے۔
اسمِ مکبر وہ اسم ہے جو کسی چیز کی اصل حالت سے بڑی صورت کو ظاہر کرے۔ مثلاً 'بات' سے 'بتنگڑ' یا 'راستہ' سے 'شاہراہ'۔ یہ اسم کی عظمت یا جسامت کو نمایاں کرتا ہے۔
اسمِ مصغر یا تصغیر وہ اسم ہے جو کسی بڑی چیز کی چھوٹی شکل کو ظاہر کرے۔ جیسے 'باغ' سے 'باغیچہ' یا 'دیگ' سے 'دیگچی'۔ اس کے آخر میں اکثر 'چہ' یا 'ی' لگائی جاتی ہے۔
اسمِ آلہ وہ اسمِ نکرہ ہے جو کسی اوزار یا ہتھیار کے نام کو ظاہر کرے۔ چاقو، قینچی اور قلم وہ آلات ہیں جن سے ہم کاٹنے یا لکھنے کا کام لیتے ہیں، اس لیے یہ اسمِ آلہ ہیں۔
چونکہ 'میدانِ جنگ' ایک خاص جگہ کا نام ہے جہاں لڑائی لڑی جاتی ہے، اس لیے یہ مقام کی نشاندہی کرنے کی وجہ سے ظرفِ مکاں کہلائے گا۔
ظرفِ مکاں وہ اسم ہے جو کسی جگہ، مقام یا ٹھکانے کا نام بتائے۔ مثلاً سکول، مسجد، گھر، میدان یا پاکستان وغیرہ، یہ تمام الفاظ کسی نہ کسی جگہ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
اسمِ ظرف کی وہ قسم جو وقت، دن، مہینے یا سال کی نشاندہی کرے اسے ظرفِ زماں کہتے ہیں۔ جیسے صبح، شام، منٹ، گھنٹہ یا صدی وغیرہ، یہ سب وقت کے پیمانے ہیں۔
عرف وہ نام ہے جو اصلی نام کے علاوہ کسی پیار، محبت یا کسی جسمانی نقص یا حقارت کی وجہ سے معاشرے میں مشہور ہو جائے۔ یہ اکثر گھروں میں بچوں کو پکارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔