Option A
عرف وہ نام ہے جو بچپن سے یا پیار کی وجہ سے مشہور ہو جائے۔ جیسے محمد سے 'مو' یا کسی اور وجہ سے 'پپو' وغیرہ۔
OTS (Open Testing Service) · Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers)
Practice verified Guinness World Records (General Knowledge Focus) MCQs with Answers & Explanations for Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers) preparation. Featuring solved questions, detailed explanations, and past paper answers (Page 504).
World Records & Superlatives · General Knowledge
عرف وہ نام ہے جو بچپن سے یا پیار کی وجہ سے مشہور ہو جائے۔ جیسے محمد سے 'مو' یا کسی اور وجہ سے 'پپو' وغیرہ۔
کنیت وہ نام ہے جو ماں، باپ یا بیٹے کی نسبت سے پکارا جائے۔ جیسے 'ابنِ مریم' (مریم کا بیٹا) یا 'ابو تراب'۔
لقب وہ وصفی نام ہے جو کسی خوبی یا بہادری کی بنا پر لوگوں میں مشہور ہو جائے۔ جیسے حضرت ابراہیمؑ کا لقب 'خلیل اللہ' ہے۔
خطاب وہ سرکاری اعزاز ہے جو ریاست کسی شخص کو اس کی قابلیت یا کارنامے پر دیتی ہے۔ جیسے شمس العلماء یا نشانِ حیدر۔
تخلص وہ مختصر نام ہے جو شعراء اپنی غزلوں کے آخری شعر (مقطع) میں لاتے ہیں۔ جیسے مرزا اسد اللہ خان کا تخلص 'غالب' ہے۔
اسمِ علم اسمِ معرفہ کی ایک شاخ ہے اور اس کی پانچ مشہور اقسام ہیں: خطاب، لقب، تخلص، کنیت اور عرف۔ یہ تمام اقسام خاص ناموں کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتی ہیں۔
پڑھائی ایک ایسا اسم ہے جو مصدر 'پڑھنا' سے نکلا ہے۔ جو کلمہ کسی قاعدے کے تحت مصدر سے بنایا جائے، اسے اسمِ مشتق کہتے ہیں۔
اسمِ مصدر وہ کلمہ ہے جو کسی کام کے ہونے کو ظاہر کرتا ہے لیکن اس میں کوئی زمانہ نہیں پایا جاتا۔ اردو میں اس کی علامت 'نا' ہے، جیسے لکھنا، پڑھنا۔
اسمِ جامد وہ اسم ہے جو اپنی اصل حالت میں پایا جاتا ہے۔ یہ کسی قاعدے کے تحت کسی دوسرے لفظ سے نہیں نکلتا، جیسے میز، کرسی، چٹان وغیرہ۔
بناوٹ یا ساخت کے لحاظ سے اسم کی تین اقسام ہیں: اسمِ جامد (جو کسی سے نہ بنا ہو)، اسمِ مصدر (جس سے دوسرے الفاظ بنیں) اور اسمِ مشتق (جو مصدر سے بنا ہو)۔
لڑکا ایک عام اسم ہے کیونکہ یہ دنیا کے کسی بھی لڑکے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، اس لیے اسے اسمِ نکرہ یا اسمِ عام کہتے ہیں۔ باقی تمام آپشنز خاص ناموں کو ظاہر کر رہے ہیں۔
اسمِ معرفہ کو اسمِ خاص بھی کہتے ہیں۔ یہ کسی متعین فرد یا مقام کی نشاندہی کرتا ہے جیسے 'بانگِ درا' (ایک خاص کتاب) یا 'کراچی' (ایک خاص شہر)۔
اسم وہ کلمہ ہے جو کسی بھی جاندار یا بے جان چیز، جگہ یا شخص کی پہچان کے لیے مخصوص ہو۔ اردو گرامر میں کلمہ کی تین اقسام میں سے اسم سب سے بنیادی ہے جو نام کو ظاہر کرتا ہے۔
اسمِ مفعول (Objective Noun) وہ اسم ہے جس پر فعل (کام) واقع ہو۔ اس جملے میں کھانے کا عمل 'سیب' پر ہو رہا ہے، اس لیے سیب اسمِ مفعول ہے۔ جبکہ 'بچہ' اسمِ فاعل ہے۔
اسمِ فاعل (Subjective Noun) وہ اسم مشتق ہے جو فعل کو انجام دینے والے یعنی کام کرنے والے کی نشاندہی کرے۔ جیسے 'لکھنے والا' یا 'کھلاڑی'۔ یہ مصدر سے مشتق ہوتا ہے۔
اسمِ ظرف وہ اسم ہے جو یا تو مقام (جگہ) بتائے یا وقت۔ اس کی دو ذیلی اقسام ہیں: ظرفِ مکاں (جیسے اسکول، گھر) اور ظرفِ زماں (جیسے صبح، شام، سال)۔
اسمِ آلہ وہ اسمِ نکرہ ہے جو کسی اوزار یا ہتھیار کو ظاہر کرے۔ جیسے سوئی، قینچی، چاقو اور قلم تراش۔ یہ الفاظ کسی نہ کسی عمل کو انجام دینے والے آلے کے نام ہیں۔
کنیت وہ نام ہوتا ہے جو خاندانی تعلق یا رشتے کو ظاہر کرے۔ جیسے 'ابنِ مریم' (مریم کا بیٹا) یا 'ام المؤمنین' (مومنوں کی ماں)۔ یہ اردو گرامر میں اسمِ علم کی ایک اہم قسم ہے۔
لقب وہ نام ہے جو کسی شخص کی کسی خاص صفت کی وجہ سے لوگوں کی زبان پر چڑھ جائے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا لقب 'کلیم اللہ' اور محمد علی جناح کا لقب 'قائدِ اعظم' ہے۔
خطاب وہ اعزازی نام ہے جو ریاست یا حکومت کسی فرد کو اس کی غیر معمولی قابلیت یا بہادری پر دیتی ہے۔ جیسے 'شمس العلماء' یا فوجی اعزازات میں 'نشانِ حیدر' وغیرہ شامل ہیں۔