Option B
کنیت وہ نام ہے جو ماں، باپ، بیٹے یا بیٹی کی نسبت سے پکارا جائے۔ 'ابوالقاسم' کا مطلب قاسم کا باپ اور 'ابنِ مریم' کا مطلب مریم کا بیٹا ہے، اس لیے یہ خاندانی نسبت کو ظاہر کرنے والے نام کنیت کہلاتے ہیں۔
OTS (Open Testing Service) · Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers)
Practice verified Guinness World Records (General Knowledge Focus) MCQs with Answers & Explanations for Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers) preparation. Featuring solved questions, detailed explanations, and past paper answers (Page 502).
World Records & Superlatives · General Knowledge
کنیت وہ نام ہے جو ماں، باپ، بیٹے یا بیٹی کی نسبت سے پکارا جائے۔ 'ابوالقاسم' کا مطلب قاسم کا باپ اور 'ابنِ مریم' کا مطلب مریم کا بیٹا ہے، اس لیے یہ خاندانی نسبت کو ظاہر کرنے والے نام کنیت کہلاتے ہیں۔
تخلص وہ مختصر نام ہوتا ہے جو شعراء اپنے اصلی نام کی جگہ اشعار میں استعمال کرتے ہیں۔ غالب، حالی اور اقبال شعراء کے قلمی نام ہیں جو وہ اپنی شاعری کی پہچان کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
لقب وہ وصفی نام ہے جو کسی شخص کی کسی خاص خوبی، کمال یا وصف کی وجہ سے لوگوں کی زبان پر چڑھ جاتا ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ سے کلام کرنے کی وجہ سے 'کلیم اللہ' کا لقب ملا۔
خطاب وہ اعزازی نام ہوتا ہے جو حکومت یا ریاست کی طرف سے کسی شخص کو اس کی علمی، ادبی یا قومی خدمات کے صلے میں دیا جاتا ہے۔ چونکہ 'شمس العلماء' حکومت کی طرف سے دیا گیا اعزاز ہے، اس لیے یہ خطاب کہلائے گا۔
ٹک ٹک گھڑی کی مخصوص آواز کو ظاہر کرتا ہے، اور کسی بھی جاندار یا بے جان کی آواز کا نام اسمِ صوت کہلاتا ہے۔
میزان وزن کرنے کا ایک آلہ ہے، اور تمام اوزاروں کے نام اسمِ آلہ کے زمرے میں آتے ہیں۔
اسمِ نکرہ چونکہ کسی بھی عام چیز یا شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے اسے اسمِ عام بھی کہا جاتا ہے۔
ابنِ خطاب کا مطلب ہے 'خطاب کا بیٹا'۔ چونکہ یہ والد کی نسبت سے پکارا گیا ہے، اس لیے یہ کنیت ہے۔
عرف وہ نام ہے جو اصلی نام کے علاوہ کسی بھی پیار یا تضحیک کی وجہ سے پکارا جائے، جیسے 'پپو'، 'ببلو' وغیرہ۔
قوم لفظی طور پر واحد استعمال ہوتا ہے (جیسے 'پاکستانی قوم زندہ دل ہے') لیکن یہ کئی افراد کے مجموعے کو ظاہر کرتا ہے، اس لیے اسے اسمِ جمع کہتے ہیں۔
چھری ایک اوزار ہے جو کاٹنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے یہ اسمِ آلہ کہلائے گا۔
اردو میں اکثر اسمِ آلہ مصادر سے بنتے ہیں، جیسے جھولنا سے 'جھولا' یا چھاننا سے 'چھلنی'۔
سال وقت یا مدت کو ظاہر کرتا ہے، اس لیے یہ ظرفِ زماں ہے۔ باقی تمام الفاظ جگہوں کے نام ہیں جو ظرفِ مکاں کہلاتے ہیں۔
شاہراہ (بڑی سڑک) بڑائی کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ باقی تینوں آپشنز (پہاڑی، باغیچہ، دیگچی) اسمِ مصغر کی مثالیں ہیں۔
کھلاڑی کھیلنے کے عمل کو انجام دینے والے کو کہتے ہیں، اس لیے یہ اسمِ فاعل (کھیلنے والا) ہے۔
اسمِ اشارہ وہ اسم ہے جس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جائے۔ جیسے 'یہ' یا 'وہ'۔ یہ بھی اسمِ معرفہ کی ایک قسم ہے۔
سبق وہ چیز ہے جس پر پڑھنے کا فعل واقع ہوا ہے، اس لیے اسے اسمِ مفعول کہیں گے۔
اس جملے میں لکھنے کا کام اسلم نے کیا ہے، اور کام کرنے والے کو اسمِ فاعل کہا جاتا ہے۔
قافلہ ایک ایسا گروہ ہے جس میں کئی افراد شامل ہوتے ہیں، یہ لفظ واحد استعمال ہوتا ہے لیکن مجموعے کو ظاہر کرتا ہے، اس لیے اسمِ جمع ہے۔
ٹپ ٹپ بارش کے قطروں کے گرنے کی آواز ہے، اس لیے آواز کو ظاہر کرنے والے اسم کو اسمِ صوت کہتے ہیں۔