Option B
جب کسی الجھے ہوئے معاملے میں مکمل دیانتداری سے فیصلہ کیا جائے اور سچ کو جھوٹ سے بالکل الگ کر دیا جائے، تو اسے 'دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی' کرنا کہتے ہیں۔ یہ عدل و انصاف کی علامت ہے۔
OTS (Open Testing Service) · Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers)
Practice verified Guinness World Records (General Knowledge Focus) MCQs with Answers & Explanations for Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers) preparation. Featuring solved questions, detailed explanations, and past paper answers (Page 512).
World Records & Superlatives · General Knowledge
جب کسی الجھے ہوئے معاملے میں مکمل دیانتداری سے فیصلہ کیا جائے اور سچ کو جھوٹ سے بالکل الگ کر دیا جائے، تو اسے 'دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی' کرنا کہتے ہیں۔ یہ عدل و انصاف کی علامت ہے۔
انسان جس طرح کے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے، ان کی عادات اور اخلاق غیر محسوس طریقے سے اس میں بھی منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ ضرب المثل سماجی ماحول اور دوستوں کے انتخاب کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
جس نے کوئی غلط کام کیا ہوتا ہے، اس کے دل میں ہمہ وقت چور رہتا ہے اور وہ اپنی کسی نہ کسی مشکوک حرکت یا بوکھلاہٹ کی وجہ سے خود کو ظاہر کر دیتا ہے۔ یہ مجرم کے ضمیر کی بے چینی کو بیان کرتی ہے۔
چراغ پوری دنیا کو روشن کرتا ہے لیکن اس کے اپنے نیچے اندھیرا ہوتا ہے۔ یہ ضرب المثل اس شخص کے لیے ہے جو باہر تو بہت نیک نام اور سخی ہو لیکن اس کے گھر والے یا قریبی لوگ تکلیف اور محرومی میں زندگی گزار رہے ہوں۔
جو لوگ بہت زیادہ دھمکیاں دیتے ہیں یا بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، وہ حقیقت میں کچھ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ یہ مثال زبانی جمع خرچ کرنے والوں اور عملی کام سے جی چرانے والوں پر طنز ہے۔
یہ دنیا کے اس مروجہ اصول کی طرف اشارہ ہے جہاں انصاف کے بجائے طاقت کی حکمرانی ہوتی ہے۔ یعنی جس کے پاس اختیار اور طاقت ہے، وہی چیزوں کا مالک بن بیٹھتا ہے اور کمزور کا حق مارا جاتا ہے۔
یہ محاورہ ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو نہ کسی بڑے گروہ کا حصہ ہو اور نہ ہی چھوٹے، یعنی وہ بالکل غیر اہم ہو اور کسی بھی معاملے میں اس کی رائے یا وجود کی کوئی قدر نہ ہو۔
خالی برتن یا تھوتھا چنا زیادہ آواز پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح جس شخص کے پاس حقیقی علم یا قابلیت نہیں ہوتی، وہ اپنی جھوٹی شان و شوکت اور بڑائی کا بہت زیادہ پرچار کرتا ہے تاکہ لوگ مرعوب ہو سکیں۔
جس طرح بین کی آواز بھینس پر اثر نہیں کرتی، اسی طرح کسی بے وقوف یا جاہل شخص کو عقل کی باتیں بتانا یا اسے سمجھانا وقت ضائع کرنے کے برابر ہے۔ یہ مخاطب کی بے حسی اور نادانی پر طنز ہے۔
یہ مثال صحبت کے اثر کو ظاہر کرتی ہے۔ جیسے تانبا سونا نہیں ہو سکتا مگر پارس کے چھونے سے اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے، ویسے ہی ایک عام انسان نیک لوگوں کے پاس بیٹھ کر اپنی اخلاقی حالت بہتر کر لیتا ہے۔
جس شخص کو کسی خاص فن، علم یا قیمتی شے کی اہمیت کا علم نہ ہو، اس کے سامنے اس کی تعریف کرنا فضول ہے۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ جوہر کی پہچان صرف جوہری کو ہی ہوتی ہے، جاہل کو نہیں۔
یہ ضرب المثل منافق اور مکار شخص کے لیے استعمال ہوتی ہے جو سامنے تو بہت میٹھی باتیں کرتا ہے اور خیر خواہی جتاتا ہے، لیکن پیٹھ پیچھے نقصان پہنچانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ دھوکے باز انسانی رویے کی عکاسی کرتی ہے۔
پنتھ راستے کو کہتے ہیں اور کاج کام کو۔ اس ضرب المثل کا مطلب ہے کہ ایک ہی کوشش یا ایک ہی سفر کے دوران دو مختلف مقاصد حاصل کر لینا۔ یہ عقلمندی اور وقت کی بچت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
جب کسی جگہ، شخص یا ادارے کی شہرت تو آسمان کو چھو رہی ہو لیکن جب اس کا عملی تجربہ کیا جائے تو معیار نہایت ناقص نکلے، تو یہ ضرب المثل صادق آتی ہے۔ یہ دکھاوے اور حقیقت کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے۔
جہاں بالکل ناخواندہ اور نادان لوگ جمع ہوں، وہاں اگر کسی شخص کو تھوڑی بہت سمجھ بوجھ یا علم ہو، تو وہ خود کو بہت بڑا ماہر سمجھنے لگتا ہے اور دوسرے اسے اپنا رہنما مان لیتے ہیں۔ یہ کم علمی کے ماحول میں سطحی علم کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔
جب کوئی کام بگڑ جائے اور اس کے سدھار کا وقت ہاتھ سے نکل جائے، تو بعد میں ہاتھ ملنے یا رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ مثال وقت کی قدر کرنے اور بروقت فیصلے کرنے کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔
یہ ضرب المثل ایسے موقع پر کہی جاتی ہے جب کوئی شخص خود غلطی پر ہو یا جرم کرے، لیکن اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے الٹا اس شخص کو ملامت کرے جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو۔ یہ ڈھٹائی اور ناانصافی کو ظاہر کرتی ہے۔
جب کسی کام سے اصل مقصد بھی حاصل ہو جائے اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ اضافی فائدہ بھی مفت میں مل جائے، تو یہ ضرب المثل بولی جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی سودے یا کام میں ہر لحاظ سے منافع ہی منافع ہونا۔
یہ ضرب المثل اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی شخص ایک بڑی پریشانی سے جان چھڑا کر نکلے لیکن فوراً ہی کسی دوسری اور ویسی ہی مشکل صورتحال کا شکار ہو جائے۔ یہ زندگی کے نامساعد حالات اور مسلسل آزمائشوں کی عکاسی کرتی ہے۔