Option A
اگر موصوف گنتی والی چیز ہو (جیسے لڑکے) تو یہ عددی ہوگا، اور اگر ناپنے تولنے والی چیز ہو (جیسے پانی) تو یہ مقداری ہوگا۔
OTS (Open Testing Service) · Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers)
Practice verified Guinness World Records (General Knowledge Focus) MCQs with Answers & Explanations for Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers) preparation. Featuring solved questions, detailed explanations, and past paper answers (Page 509).
World Records & Superlatives · General Knowledge
اگر موصوف گنتی والی چیز ہو (جیسے لڑکے) تو یہ عددی ہوگا، اور اگر ناپنے تولنے والی چیز ہو (جیسے پانی) تو یہ مقداری ہوگا۔
ذائقہ کسی چیز کی اندرونی صفت یا ذات کا حصہ ہوتا ہے، اس لیے 'میٹھا' صفتِ ذاتی ہے۔
یہاں 'کالی' بلی کے رنگ (صفت) کو ظاہر کر رہا ہے، اس لیے یہ اسمِ صفت ہے۔
'ہوشیار' کسی شخص کی ذہنی کیفیت یا خوبی کو بیان کرتا ہے، اس لیے یہ اسمِ صفت (صفتِ ذاتی) ہے۔
اردو میں نسبت پیدا کرنے کے لیے اکثر اسم کے آخر میں چھوٹی 'ی' (یائے نسبتی) لگائی جاتی ہے، جیسے لاہور سے لاہوری اور پنجاب سے پنجابی۔
'چار گز' میں پیمائش بالکل متعین ہے، اس لیے یہ مقداری معین ہے۔ باقی تمام غیر متعین مقداریں ہیں۔
صفت اور موصوف کے ملنے سے جو مرکب بنتا ہے، اسے مرکبِ توصیفی کہتے ہیں۔ جیسے 'ٹھنڈا پانی' ایک مرکبِ توصیفی ہے۔
جب اسمِ اشارہ (یہ، وہ) کسی اسم سے پہلے آ کر اس کی طرف اشارہ کرے اور اس کی وضاحت کرے، تو وہ صفتِ اشارہ یا صفتِ ضمیری کہلاتا ہے۔
وہ اعداد جو کسی چیز کا مرتبہ یا ترتیب (Order) بتائیں، انہیں عددی مرتبی کہتے ہیں۔ جیسے 'تیسری منزل'۔
آدھا، پاؤ، چوتھائی یا ڈیڑھ وغیرہ صفتِ عددی (عددی معین کثری) کے زمرے میں آتے ہیں کیونکہ یہ گنتی کے حصوں کو ظاہر کرتے ہیں۔
'کچھ لوگ' میں لوگوں کی تعداد متعین نہیں ہے، اس لیے یہ عددی غیر معین ہے۔ 'دس کلو' مقداری ہے، اور 'تین گنا' یا 'پہلا' عددی معین ہیں۔
فارسی قاعدے میں صفت کے آخر میں 'تر' لگانے سے تفضیلِ بعض بنتی ہے، جس سے دو چیزوں کے درمیان موازنہ ظاہر ہوتا ہے۔
فارسی قاعدے کے مطابق صفت کے آخر میں 'ترین' لگانے سے تفضیلِ کل بنتی ہے، جس کا مطلب ہے 'سب سے زیادہ'۔
تفضیلِ کل (Superlative degree) وہ درجہ ہے جہاں ایک چیز کا موازنہ پوری جماعت یا تمام چیزوں سے کیا جائے اور اسے سب سے اعلیٰ یا ادنیٰ بتایا جائے۔ جیسے 'احمد سب سے نیک ہے'۔ فارسی میں اس کے آخر میں 'ترین' لگاتے ہیں۔
تفضیلِ بعض (Comparative degree) وہ درجہ ہے جہاں دو چیزوں کا آپس میں موازنہ کیا جاتا ہے اور ایک کو دوسرے سے بہتر یا بدتر بتایا جاتا ہے۔ جیسے 'احمد، علی سے زیادہ نیک ہے'۔ فارسی میں اس کے آخر میں 'تر' لگاتے ہیں۔
تفضیلِ نفسی صفت کا پہلا درجہ ہے جہاں کسی کا کسی سے موازنہ نہیں ہوتا بلکہ سادہ خوبی بیان ہوتی ہے، جیسے 'احمد نیک ہے'۔
صفتِ ذاتی کے تین درجات یا حالتیں ہوتی ہیں: تفضیلِ نفسی (Positive)، تفضیلِ بعض (Comparative) اور تفضیلِ کل (Superlative)۔ یہ مقابلے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
چونکہ 'لاہوری' نمک کا تعلق لاہور شہر سے ظاہر کر رہا ہے، اس لیے یہ صفتِ نسبتی ہے۔ یہ کسی جگہ کی طرف منسوب ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔
صفتِ مقداری کی بھی دو اقسام ہیں: مقداری معین (جیسے چار سیر گندم) اور مقداری غیر معین (جیسے تھوڑا سا پانی)۔ یہ پیمائش کی وضاحت کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
'سات دن' میں تعداد بالکل واضح اور متعین ہے، اس لیے یہ عددی معین ہے۔ باقی مثالوں (کچھ، کئی، بہت سی) میں تعداد کا ٹھیک پتہ نہیں چل رہا، اس لیے وہ عددی غیر معین ہیں۔