Option B
یہ مکافاتِ عمل کا ایک سنہری اصول ہے کہ جو انسان دوسروں کی مدد کرتا ہے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ غیب سے اس کے اپنے کاموں میں بھی خیر و برکت ڈال دیتا ہے۔
OTS (Open Testing Service) · Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers)
Practice verified Guinness World Records (General Knowledge Focus) MCQs with Answers & Explanations for Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers) preparation. Featuring solved questions, detailed explanations, and past paper answers (Page 511).
World Records & Superlatives · General Knowledge
یہ مکافاتِ عمل کا ایک سنہری اصول ہے کہ جو انسان دوسروں کی مدد کرتا ہے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ غیب سے اس کے اپنے کاموں میں بھی خیر و برکت ڈال دیتا ہے۔
ڈھاک ایک درخت ہے جس کے پتے ہمیشہ تین تین کے جوڑ میں ہوتے ہیں۔ جب کسی مسئلے کو حل کرنے کی بہت کوشش کی جائے مگر نتیجہ پھر بھی وہی پرانا نکلے، تو یہ ضرب المثل بولی جاتی ہے۔
یہ ضرب المثل مالی نظم و ضبط کی اہمیت بتاتی ہے۔ یعنی انسان کو اتنے ہی اخراجات کرنے چاہئیں جتنے اس کے وسائل اجازت دیتے ہوں، ورنہ وہ قرض اور ذلت میں پھنس سکتا ہے۔
تخم بیج کو کہتے ہیں۔ اگر بیج ہی خراب ہوگا تو فصل بھی اچھی نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی کام کی بنیاد ہی برائی پر ہوگی تو اس کا نتیجہ بھی ہلاکت اور بربادی ہی ہوگا۔
جب کوئی شخص عمر گزر جانے کے بعد ایسی حرکتیں کرے جو نوجوانوں کو زیب دیتی ہوں، یا بہت عرصے بعد اچانک کسی معاملے میں جوش دکھائے، تو یہ ضرب المثل طنزیہ طور پر کہی جاتی ہے۔
اس سے مراد یہ ہے کہ انسان جس گروہ یا صحبت میں رہتا ہے، اس کا اثر اس پر پڑتا ہے۔ ایک معمولی انسان بھی بزرگوں کی صحبت میں رہ کر قیمتی بن جاتا ہے۔
جب کسی کام یا لباس میں دو مختلف اور متضاد چیزوں کو ملا دیا جائے جو ایک دوسرے کے ساتھ بالکل نہ جچتی ہوں، تو اسے 'آدھا تیتر آدھا بٹیر' کہا جاتا ہے۔ یہ بے ترتیبی کی علامت ہے۔
ناریل ایک قیمتی اور سخت پھل ہے جسے توڑنا بندر کے بس کی بات نہیں، وہ صرف اسے دیکھ سکتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی جاہل شخص کسی اعلیٰ منصب یا شے کو حاصل کر لے جس کا وہ اہل نہ ہو، تو یہ مثال دی جاتی ہے۔
جب کوئی شخص کسی مقابلے میں ہار جائے یا اپنی غلطی پر شرمندہ ہو، تو وہ اپنی ندامت چھپانے کے لیے دوسروں پر بلاوجہ غصہ نکالتا ہے یا عجیب و غریب بہانے تراشتا ہے۔
کچھ لوگوں کی باتیں اور دعوے تو بہت پرکشش ہوتے ہیں لیکن ان کے اعمال ان کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ یہ منافقت اور دوغلے پن کو ظاہر کرنے والی ایک مشہور مثال ہے۔
آرسی اس انگوٹھی کو کہتے ہیں جس میں شیشہ لگا ہو۔ جو زیور ہاتھ میں پہنا ہوا ہے اسے دیکھنے کے لیے آئینہ ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ یعنی عیاں کو بیان کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ایسا شخص جسے کسی شعبے (خصوصاً طب) کی مکمل معلومات نہ ہوں، وہ اپنے غلط علاج یا مشورے سے کسی کی زندگی تباہ کر سکتا ہے۔ یہ ادھورے علم کی تباہ کاریوں سے بچنے کی نصیحت ہے۔
جب کسی کو کوئی کام کرنا نہ آتا ہو اور وہ اپنی کمزوری تسلیم کرنے کے بجائے یہ بہانہ بنائے کہ اوزار خراب ہیں یا جگہ درست نہیں، تو اسے 'ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا' کہا جاتا ہے۔
جب کوئی شخص کسی دوسرے کی مرضی کے بغیر اس کے معاملات میں دخل دے یا زبردستی اس کے گھر یا محفل میں جم کر بیٹھ جائے، تو یہ ضرب المثل طنز کے طور پر کہی جاتی ہے۔
جو شخص ضرورت سے زیادہ ہوشیاری دکھاتا ہے اور ہر معاملے میں اپنی چالاکی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، وہ اکثر اپنی ہی بچھائی ہوئی چال میں پھنس کر ذلیل و خوار ہوتا ہے۔
ایسی تدبیر اختیار کرنا جس سے دشمن یا رکاوٹ بھی ختم ہو جائے اور اپنا کوئی جانی یا مالی نقصان بھی نہ ہو۔ یہ حکمتِ عملی اور دانشمندی کی بہترین مثال ہے۔
جب کوئی شخص شدید بحران یا پریشانی میں ہو، تو اسے بچانے کے لیے معمولی سی امید یا معمولی سی مدد بھی زندگی کی نئی رمق دے دیتی ہے۔ یہ مایوسی کے عالم میں امید کی علامت ہے۔
اس ضرب المثل کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی جگہ مکمل طور پر خفیہ نہیں ہوتی۔ اگر آپ کوئی راز کی بات کر رہے ہیں تو بہت سنبھل کر کریں کیونکہ کہیں سے بھی کوئی اسے سن کر افشاء کر سکتا ہے۔
بہت سی چیزیں دور سے دیکھنے میں بہت دلفریب اور آرام دہ معلوم ہوتی ہیں، لیکن جب انسان ان کے قریب جاتا ہے یا ان میں شامل ہوتا ہے، تو ان کی تکالیف اور خامیاں سامنے آتی ہیں۔ یہ خام خیالی کی نفی ہے۔
جو شخص دو کشتیوں میں سوار ہو یا کسی ایک جگہ جم کر کام نہ کرے، وہ آخر میں ہر جگہ سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ مثال بے ثباتی اور کسی ایک مقصد کے ساتھ وابستگی نہ رکھنے کے انجام کو ظاہر کرتی ہے۔