Option A
صفتِ عددی کی دو بڑی اقسام ہیں: عددی معین (جس میں تعداد کا یقین ہو، جیسے پانچ) اور عددی غیر معین (جس میں تعداد متعین نہ ہو، جیسے کئی یا تھوڑے)۔
OTS (Open Testing Service) · Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers)
Practice verified Guinness World Records (General Knowledge Focus) MCQs with Answers & Explanations for Khuddam-ul-Hujjaj/ Nazims for Hajj (OTS 2027 - Includes All NTS Past Papers) preparation. Featuring solved questions, detailed explanations, and past paper answers (Page 510).
World Records & Superlatives · General Knowledge
صفتِ عددی کی دو بڑی اقسام ہیں: عددی معین (جس میں تعداد کا یقین ہو، جیسے پانچ) اور عددی غیر معین (جس میں تعداد متعین نہ ہو، جیسے کئی یا تھوڑے)۔
صفتِ ضمیری (Pronominal Adjective) وہ ضمیریں ہیں جو اسم سے پہلے آ کر اس کی صفت بن جاتی ہیں۔ مثلاً 'کون سا لڑکا؟'، 'وہ گھر' یا 'کیا بات؟'۔ یہاں کون سا، وہ اور کیا صفتِ ضمیری کا کام کر رہے ہیں۔
صفتِ مقداری (Quantitative Adjective) وہ صفت ہے جو ان چیزوں کے لیے استعمال ہو جنہیں گنا نہیں جا سکتا بلکہ ناپا یا تولا جاتا ہے۔ جیسے 'دو کلو چینی'، 'بہت سا دودھ' یا 'ایک گز کپڑا'۔ یہ وزن یا پیمائش کی نشاندہی کرتی ہے۔
صفتِ عددی (Numerical Adjective) وہ صفت ہے جو کسی اسم کی گنتی، تعداد یا درجہ بتائے۔ مثلاً 'دس طلباء'، 'چوتھا حصہ' یا 'کچھ لوگ'۔ یہ صفت بتاتی ہے کہ موصوف کی تعداد کتنی ہے یا وہ کس نمبر پر ہے۔
صفتِ نسبتی (Relative Adjective) وہ صفت ہے جو کسی اسم کا کسی خاص مقام یا گروہ سے تعلق ظاہر کرے۔ جیسے 'پاکستانی سپاہی'، 'کشمیری سیب' یا 'عربی زبان'۔ ان مثالوں میں پاکستان، کشمیر اور عرب سے نسبت دی گئی ہے۔
صفتِ ذاتی (Qualitative Adjective) وہ صفت ہے جو کسی موصوف کی ایسی کیفیت یا حالت بتائے جو اس کی ذات کا حصہ ہو۔ جیسے 'ہوشیار لڑکا'، 'کڑوا پانی' یا 'سیاہ بادل'۔ یہ صفات موصوف کی اصل حقیقت یا حالت کو بیان کرتی ہیں۔
اردو گرامر میں اسمِ صفت کی پانچ بنیادی اقسام مانی جاتی ہیں: صفتِ ذاتی، صفتِ نسبتی، صفتِ عددی، صفتِ مقداری اور صفتِ ضمیری۔ ہر قسم اسم کے مختلف پہلوؤں (ذات، تعلق، گنتی، ناپ تول یا اشارہ) کو واضح کرتی ہے۔
موصوف (Noun being described) وہ اسم ہوتا ہے جس کی کوئی صفت بیان کی جا رہی ہو۔ مثلاً 'سرخ پھول' میں 'سرخ' صفت ہے اور 'پھول' موصوف ہے کیونکہ سرخی کی صفت پھول سے منسوب کی گئی ہے۔
اسمِ صفت (Adjective) وہ کلمہ ہے جو کسی اسم یا ضمیر کی خوبی، خامی، رنگ، مقدار، تعداد یا حالت کو بیان کرتا ہے۔ جیسے 'بہادر سپاہی' میں 'بہادر' صفت ہے کیونکہ یہ سپاہی کی ایک خاص صفت کو ظاہر کر رہا ہے۔
جب کوئی شخص اپنی جیب سے کچھ خرچ نہ کرے بلکہ دوسرے کی دولت یا محنت کو اپنی نیک نامی کے لیے استعمال کرے، تو اسے اس خود غرضی پر یہ طنز کیا جاتا ہے۔
جب کوئی شخص غلط کام کرے اور پکڑے جانے پر معذرت کرنے کے بجائے الٹا لڑنے مرنے پر تیار ہو جائے اور اپنا قصور نہ مانے، تو یہ ضرب المثل کہی جاتی ہے۔
ارادے کی پختگی اور شوقِ عمل انسان کو منزل تک پہنچا ہی دیتے ہیں۔ اگر لگن سچی ہو تو بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی راستہ نہیں روک سکتی۔
جب کوئی شخص پہلے کسی سے فائدہ اٹھا لے یا کوئی کام کر لے اور پھر بعد میں اس کے پس منظر یا نقصان پر سوچے، تو اسے اس بے وقوفی پر یہ مثال دی جاتی ہے۔
یہ ضرب المثل اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ جو چیز جبلت یا فطرت میں رچی بسی ہو، اسے تعلیم یا تربیت سے مکمل طور پر تبدیل کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔
جب انسان کو اپنا مقصد حاصل ہو رہا ہو تو اسے اس کی جزئیات یا غیر ضروری تفتیش میں نہیں پڑنا چاہیے۔ یہ نصیحت کرتی ہے کہ اصل مقصد پر توجہ دیں نہ کہ لاحاصل بحث پر۔
ایک نابینا شخص کے لیے بینائی سے بڑھ کر کوئی تمنا نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح جب کسی ضرورت مند کو اس کی مطلوبہ شے مل جائے تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔
یہ فارسی الاصل ضرب المثل اردو میں اس وقت مستعمل ہے جب کسی پر پے در پے مشکلات نازل ہوں یا ایک ادھورا کام ابھی پورا نہ ہوا ہو کہ دوسرا سر پر آ کھڑا ہو۔
بروا پودے کو کہتے ہیں۔ جس طرح ایک اچھے پودے کے پتے شروع سے ہی چمکدار اور صحت مند ہوتے ہیں، اسی طرح ایک لائق اور ذہین بچہ اپنی ابتدائی عمر سے ہی اپنی مستقبل کی عظمت کا پتہ دے دیتا ہے۔
یہ ان لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو اپنی نااہلی کا بوجھ دوسروں کے کندھوں پر ڈال دیتے ہیں اور ہر ناکامی کی ذمہ داری حالات یا اوزاروں پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں۔
انسان اکثر اپنے پاس موجود نعمتوں یا اپنے گھر کے باصلاحیت افراد کی اہمیت کو نہیں سمجھتا اور دوسروں کی معمولی چیزوں کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ اپنوں کی ناقدری کا بیان ہے۔